59 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبُوشَنْجِىُّ حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ قَالَ حَدَّثُونَا عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ لَمَّا كُنَّا بِالشَّامِ أَتَيْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضى الله عنه بِمَاءٍ فَتَوَضَّأَ مِنْهُ فَقَالَ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ بِهَذَا الْمَاءِ مَا رَأَيْتُ مَاءً عَذْبًا وَلاَ مَاءَ سَمَاءٍ أَطْيَبَ مِنْهُ. قَالَ قُلْتُ جِئْتُ بِهِ مِنْ بَيْتِ هَذِهِ الْعَجُوزِ النَّصْرَانِيَّةِ فَلَمَّا تَوَضَّأَ أَتَاهَا فَقَالَ أَيَّتُهَا الْعَجُوزُ أَسْلِمِى تَسْلَمِى بَعَثَ اللَّهُ مُحَمَّدًا -صلى الله عليه وسلم- بِالْحَقِّ. قَالَ فَكَشَفَتْ عَنْ رَأْسِهَا فَإِذَا مِثْلُ الثَّغَامَةِ فَقَالَتْ عَجُوزٌ كَبِيرَةٌ وَأَنَا أَمُوتُ الآنَ. فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه اللَّهُمَّ اشْهَدْ.
زید بن اسلم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : جب ہم لوگ شام میں تھے تو میں حضرت عمر بن خطاب (رض) کی خدمت میں پانی لے کر آیا، انھوں نے اس پانی سے وضو کرلیا اور پھر دریافت کیا : تم یہ پانی کہاں سے لے کر آئے ہو ؟ میں نے اس سے زیادہ میٹھا اور اس سے زیادہ صاف کوئی آسمانی پانی بھی نہیں دیکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : میں اسے ایک بوڑھی عیسائی عورت کے گھر سے لے کر آیا ہوں، جب حضرت عمر (رض) نے وضو کرلیا تو آپ اس خاتون کے پاس تشریف لائے، آپ نے ارشاد فرمایا : اے بوڑھی خاتون ! تم اسلام قبول کرلو، سلامت رہوگی، اللہ تعالیٰ نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔
راوی بیان کرتے ہیں : اس خاتون نے اپنے سر سے چادر ہٹائی تو اس کے بال ثغامہ (پھولوں کی طرح سفید) تھے، وہ بوڑھی عورت بولی : اب تو میں مرنے والی ہوں، تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا : اے اللہ ! تو گواہ رہنا !