61 - حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِىُّ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ أَنَّ زِنْجِيًّا وَقَعَ فِى زَمْزَمَ يَعْنِى فَمَاتَ فَأَمَرَ بِهِ ابْنُ عَبَّاسٍ رضى الله عنهما فَأُخْرِجَ وَأَمَرَ بِهَا أَنْ تُنْزَحَ - قَالَ - فَغَلَبَتْهُمْ عَيْنٌ جَاءَتْهُمْ مِنَ الرُّكْنِ فَأَمَرَ بِهَا فَدُسِمَتْ بِالْقَبَاطِىِّ وَالْمَطَارِفِ حَتَّى نَزَحُوهَا فَلَمَّا نَزَحُوهَا انْفَجَرَتْ عَلَيْهِمْ.
محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ایک حبشی زم زم کے کنویں میں گرگیا، یعنی گر کے مرگیا، حضرت ابن عباس (رض) کے حکم کے تحت اس کی لاش کو باہر نکالا گیا اور کنویں کے بارے میں حضرت ابن عباس (رض) نے یہ ہدایت دی کہ اسے صاف کردیا جائے۔ راوی بیان کرتے ہیں : لیکن چشمے کا پانی لوگوں کے قابو میں نہیں آیا، وہ رکن (حجراسود) کی طرف سے آگیا۔ حضرت ابن عباس (رض) نے اس کے بارے میں ہدایت کی : وہ پوری طرح سے کپڑوں کے ذریعے بند کیا جائے، یہاں تک کہ وہ مکمل بند ہوجائے، جب لوگوں نے اسے بند کیا تو پھر اس میں سے پانی باہر نکل آیا۔