711 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَيَّةَ حَدَّثَنَا أَيُّوبُ عَنْ أَبِى قِلاَبَةَ عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِى عَامِرٍ قَالَ نُعِتَ لِى أَبُو ذَرٍّ فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ أَنْتَ أَبُو ذَرٍّ قَالَ إِنَّ أَهْلِى لَيَزْعُمُونَ ذَاكَ. قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلَكْتُ. قَالَ « وَمَا أَهْلَكَكَ ». قُلْتُ إِنِّى أَعْزُبُ عَنِ الْمَاءِ وَمَعِى أَهْلِى فَتُصِيبُنِى الْجَنَابَةُ.فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ الصَّعِيدَ الطَّيِّبَ طَهُورٌ مَا لَمْ تَجِدِ الْمَاءَ وَلَوْ إِلَى عَشْرِ حِجَجٍ فَإِذَا وَجَدْتَ الْمَاءَ فَأَمْسِسْهُ بَشْرَتَكَ ».
711 ۔ ابوقلابہ بنو عامر سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں مجھے حضرت ابوذر (رض) کے بارے میں بتایا گیا تو میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا میں نے ان سے دریافت کیا ، آپ حضرت ابوذر ہیں انھوں نے جواب دیا میرے گھروالے مجھے تو یہی کہتے ہیں ، پھر حضرت ابوذرغفاری (رض) نے بتایا ایک مرتبہ میں نے عرض کیا یارسول اللہ میں ہلاکت کا شکار ہوگیاہوں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا تمہیں کس چیز نے ہلاکت کا شکار کردیا ہے میں نے عرض کیا میں ایک ایسی جگہ پر تھا جہاں پانی نہیں مل سکتا تھا میرے پاس میری بیوی بھی تھی مجھے جنابت لاحق ہوگئی تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا پاک مٹی طہارت کے حصول کا ذریعہ ہے جب تک آدمی کو پانی نہ ملے اگرچہ دس برس گزر جائیں جب تمہیں پانی مل جائے تو وہ اپنے جسم پر ڈال لو۔