750 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ وَالْحَسَنُ بْنُ أَبِى الرَّبِيعِ وَاللَّفْظُ لَهُ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنْ عَاصِمِ بْنِ أَبِى النَّجُودِ عَنْ زِرِّ بْنِ حُبَيْشٍ قَالَ جِئْتُ صَفْوَانَ بْنَ عَسَّالٍ الْمُرَادِىَّ فَقَالَ مَا جَاءَ بِكَ فَقُلْتُ جِئْتُ أَطْلُبُ الْعِلْمَ . قَالَ فَإِنِّى سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « مَا مِنْ خَارِجٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ فِى طَلَبِ الْعِلْمِ إِلاَّ وَضَعَتْ لَهُ الْمَلاَئِكَةُ أَجْنِحَتَهَا رِضًا بِمَا يَصْنَعُ ».
قَالَ جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الْمَسْحِ عَلَى الْخُفَّيْنِ. قَالَ نَعَمْ كُنْتُ فِى الْجَيْشِ الَّذِينَ بَعَثَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَأَمَرَنَا أَنْ نَمْسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ إِذَا نَحْنُ أَدْخَلْنَاهُمَا عَلَى طُهْرٍ ثَلاَثًا إِذَا سَافَرْنَا وَيَوْمًا وَلَيْلَةً إِذَا أَقَمْنَا وَلاَ نَخْلَعَهُمَا مِنْ بَوْلٍ وَلاَ غَائِطٍ وَلاَ نَوْمٍ وَلاَ نَخْلَعَهُمَا إِلاَّ مِنْ جَنَابَةٍ قَالَ وَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- يَقُولُ « إِنَّ بِالْمَغْرِبِ بَابًا مَفْتُوحًا لِلتَّوْبَةِ مَسِيرَتُهُ سَبْعُونَ سَنَةً لاَ يُغْلَقُ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ مِنْ نَحْوِهِ ».
750 ۔ زر بن حبیش بیان کرتے ہیں : میں حضرت صفوان بن عسال (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا، انھوں نے دریافت کیا : کیوں آئے ہو ؟ میں نے جواب دیا میں علم کے حصول کے لیے آیاہوں ، تو انھوں نے فرمایا میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جو شخص علم کے حصول کے لیے اپنے گھر سے نکلتا ہے تو فرشتے اس کے اس عمل سے راضی ہو کر اپنے پر بچھاتے ہیں۔ زر نے کہا : میں اس لیے آیاہوں تاکہ موزوں پر مسح کے بارے میں دریافت کروں، تو انھوں نے جواب دیا، میں اس لشکر میں شامل تھا جسے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے (ایک مہم) پر بھیجا تھا اور ہمیں ہدایت کی تھی ، تم اپنے موزوں پر مسح سفر کے دوران تین دن تک مسح کرسکتے ہو اور قیام کے دوران ایک دن اور ایک رات تک کرسکتے ہو ۔ جبکہ ہم نے اسے باوضو حالت میں موزوں میں داخل کیا ہو اور ہم اپنے پیشاب کرنے کے بعد پاخانہ کرنے کے بعد یا سونے کے بعد (اٹھ کر وضو کرتے ہوئے نہیں اتاریں گے ، ہم انھیں صرف جنابت کی حالت میں اتاریں گے ۔
حضڑت صفوان (رض) نے یہ بھی بتایا : میں نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے مغرب میں ایک دروازہ ہے جو توبہ کے لیے کھلا ہوا ہے جس کی چوڑائی ستر برس کی مسافت جتنی ہے ، یہ اس وقت تک بند نہیں ہوگا جب تک سورج اس (مغرب) کی طرف سے طلوع نہیں ہوتا۔