hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 754

.

سنن الدارقطني

754
Sunan Al Daraqutni
754 - حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِىُّ أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَزِينٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ أَبِى زِيَادٍ عَنْ أَيُّوبَ بْنِ قَطَنٍ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَىٍّ عَنْ أُبَىٍّ هُوَ ابْنُ عُمَارَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- صَلَّى فِى بَيْتِ عُمَارَةَ الْقِبْلَتَيْنِ وَأَنَّهُ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ قَالَ « نَعَمْ ». قَالَ يَوْمًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « نَعَمْ ». قَالَ وَيَوْمَيْنِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « نَعَمْ وَثَلاَثًا ». قَالَ ثَلاَثًا يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ « نَعَمْ ». حَتَّى بَلَغَ سَبْعًا ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « وَمَا بَدَا لَكَ ». هَذَا الإِسْنَادُ لاَ يَثْبُتُ وَقَدِ اخْتُلِفَ فِيهِ عَلَى يَحْيَى بْنِ أَيُّوبَ اختِْلاَفًا كَثِيرًا قَدْ بَيَّنْتُهُ فِى مَوْضِعٍ آخَرَ. وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ وَمُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ وَأَيُّوبُ بْنُ قَطَنٍ مَجْهُولُونَ كُلُّهُمْ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
754 ۔ عبادہ بن نسئی ، ابی کے حوالہ سے جو ابن عمارہ ہیں ، یہ بات نقل کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت عمارہ کے گھر میں دونوں قبلوں کی طرف رخ کرکے نماز ادا کی ہے ، انھوں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کیا میں اپنے موزوں پر مسح کرلوں تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں تو انھوں نے عرض کی ، یارسول اللہ ایک دن تک ؟ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں (کرسکتے ہو) انھوں نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! دو دن تک نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہاں (کرسکتے ہو) اور تین دن تک بھی۔ انھوں نے عرض کی یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تین دن تک بھی ؟ یہاں تک کہ انھوں نے سات دن تک پوچھا، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جتنا تمہیں مناسب لگے۔
اس کی سند ثابت نہیں ہے۔ یحییٰ بن ایوب نامی راوی سے روایت نقل کرنے میں اختلاف کیا گیا ہے جو میں نے کسی اور مقام پر ذکر کیا ہے ، اس روایت کے راوی عبدالرحمن ، محمد بن یزید ، اور ایوب بن قحطن، سب مجہول ہیں باقی اللہ بہتر جانتا ہے۔