hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 762

.

سنن الدارقطني

762
Sunan Al Daraqutni
762 - حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ وَالْقَاسِمُ ابْنَا إِسْمَاعِيلَ قَالاَ حَدَّثَنَا مَحْمُودُ بْنُ خِدَاشٍ حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ الْفَزَارِىُّ حَدَّثَنَا عَوْفٌ الأَعْرَابِىُّ عَنْ أَبِى رَجَاءٍ الْعُطَارِدِىِّ حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ الْخُزَاعِىُّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فِى سَفَرٍ وَإِنَّا سَرَيْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ حَتَّى إِذَا كَانَ فِى آخِرِ اللَّيْلِ وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ وَلاَ وَقْعَةَ عِنْدَ الْمُسَافِرِ أَحْلَى مِنْهَا فَمَا أَيْقَظَنَا إِلاَّ حَرُّ الشَّمْسِ ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ وَقَالَ فِيهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا فُلاَنُ مَا لَكَ لَمْ تُصَلِّ مَعَنَا ». قَالَ أَصَابَتْنِى جَنَابَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَلاَ مَاءَ. فَقَالَ « عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ ». وَقَالَ فِيهِ أَيْضًا وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِإِنَاءٍ فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ ثُمَّ تَمَضْمَضَ ثُمَّ أَعَادَهُ فِى الإِنَاءِ ثُمَّ أَعَادَهُ فِى أَفْوَاهِهِمَا وَأَوْكَأَهُمَا وَأَطْلَقَ الْعَزَالِىَ وَنُودِىَ فِى النَّاسِ أَنِ اسْقُوا وَاسْتَقُوا فَسَقَى مَنْ سَقَى وَاسْتَقَى مَنِ اسْتَقَى وَآخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الرَّجُلَ الَّذِى أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ فَقَالَ « أَفْرِغْهُ عَلَيْكَ ». وَهِىَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يُصْنَعُ بِمَائِهَا وَايْمُ اللَّهِ لَقَدْ أَقْلَعَ عَنْهَا حِينَ أَقْلَعَ وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مِلأَةً مَمَّا كَانَتْ حَيْثُ ابْتُدِئَ فِيهَا. وَذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ نَحْوَهُ.
762 ۔ حضرت عمران بن حصین (رض) بیان کرتے : ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ہمراہ ایک سفر میں تھے ہم رات بھر چلتے رہے جب رات کا آخری حصہ ہوا تو ہم اس وقت سو گئے اس وقت سونے سے زیادہ لطف انگیز چیز کوئی نہیں ہے ، سورج کی تپش نے ہمیں بیدار کردیا۔ انھوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دریافت کیا اے فلاں شخص تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی اس نے عرض کیا یارسول اللہ مجھے جنابت لاحق ہوگئی تھی اور پانی موجود نہیں ہے تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم مٹی استعمال کرو وہ تمہارے لیے بہتر ہوگی۔
اس روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے برتن منگوایا مشکیزوں کے منہ کے ذریعے برتنوں میں پانی ڈالا پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے کلی کی برتن میں دوبارہ اس پانی کو ڈال دیا پھر آپ نے وہ برتن پانی دوبارہ ان مشکیزوں میں ڈال دیا اور ان کا منہ اوپر سے بند کردیا اور نیچے کی طرف سے کھول دیا، پھر لوگوں میں یہ اعلان کیا، وہ خود بھی پانی پی لیں اور اپنے جانوروں کو بھی پلا دیں ، جس نے خود پینا تھا خود پی لیا، جس نے جانوروں کو پلانا تھا ان کو بھی پلادیا آخر میں اس شخص کو پانی دیا تھا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی اسے پانی کا ایک برتن دیا اور فرمایا، اسے اپنے جسم پربہالو وہ عورت کھڑی ہوئی اور دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہورہا ہے ۔
(راوی کہتے ہیں) اللہ کی قسم جب ان کے منہ کو بند کیا گیا تو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ مشکیزے پہلے سے بھی زیادہ بھرے ہوئے ہیں جتنے آغاز میں تھے۔ انھوں نے باقی حدیث اسی کی مانند نقل کی ہے۔