827 - حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ شَاهِينَ أَبُو بِشْرٍ حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ سُهَيْلِ بْنِ أَبِى صَالِحٍ عَنِ الزُّهْرِىِّ عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ عُمَيْسٍ قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَاطِمَةُ بِنْتُ أَبِى حُبَيْشٍ اسْتُحِيضَتْ مُنْذُ كَذَا وَكَذَا. قَالَ « سُبْحَانَ اللَّهِ هَذَا مِنَ الشَّيْطَانِ فَلْتَجْلِسْ فِى مِرْكَنٍ ».
فَجَلَسَتْ فِيهِ حَتَّى رَأَتِ الصُّفْرَةَ فَوْقَ الْمَاءِ فَقَالَ « تَغْتَسِلُ لِلظُّهْرِ وَالْعَصْرِ غُسْلاً وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ غُسْلاً وَاحِدًا ثُمَّ تَغْتَسِلُ لِلْفَجْرِ غُسْلاً وَاحِدًا ثُمَّ تَوَضَّأُ بَيْنَ ذَلِكَ ».
827 ۔ سیدہ اسماء بنت عمیس (رض) بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی یارسول اللہ فاطمہ بنت ابوحبیش کو اتنے عرصے سے استحاضہ کی شکایت ہے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہے ! یہ شیطان کی طرف سے ہے اسے کسی بڑے برتن میں بیٹھنا چاہیے ۔ وہ خاتون اس پر بیٹھی تو اس کے حیض کی زردی غالب آگئی ، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا وہ ظہر اور عصر کے لیے ایک مربتہ غسل کرے اور مغرب اور عشاء کے لیے ایک مرتبہ غسل کرے پھر فجر کے لیے الگ سے غسل کرے اور اس کے درمیان میں وضو کرلیاکرے۔