899 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ زَنْجَوَيْهِ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ أَخْبَرَنِى نَافِعٌ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ كَانَ الْمُسْلِمُونَ حِينَ قَدِمُوا الْمَدِينَةَ يَجْتَمِعُونَ يَتَحَيَّنُونَ الصَّلاَةَ وَلَيْسَ يُنَادَى بِهَا فَكَلَّمُوهُ يَوْمًا فِى ذَلِكَ فَقَالَ بَعْضُهُمُ اتَّخِذُوا نَاقُوسًا مِثْلَ نَاقُوسِ النَّصَارَى وَقَالَ بَعْضُهُمْ بُوقًا مِثْلَ بُوقِ الْيَهُودِ فَقَالَ عُمَرُ رضى الله عنه أَلاَ تَبْعَثُونَ رِجَالاً يُنَادُونَ بِالصَّلاَةِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « يَا بِلاَلُ قُمْ فَأَذِّنْ ».
899 ۔ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) بیان کرتے ہیں : جب مسلمان مدینہ منورہ آئے تو نماز کے وقت اکٹھے ہوجایا کرتے تھے انھیں اس کے لیے (باقاعدہ طور پر) بلایا نہیں جاتا تھا ایک دن انھوں نے اس بارے میں بات چیت کی تو کسی نے کہا : تم لوگ عیسائیوں کے ناقوس کی طرح ناقوس بجایاکرو، کچھ نے یہودیوں کی طرح بوق بجایاکرو، تو حضرت عمر (رض) نے یہ فرمایا تم لوگ کچھ لوگوں کو بھیجتے کیوں نہیں ؟ تاکہ وہ نماز کے لیے اعلان کردیاکریں، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا اے بلال تم اٹھو اور اذان دو۔