950 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ قَالَ أَرَادَ النَّبِىُّ -صلى الله عليه وسلم- أَشْيَاءَ لَمْ يَصْنَعْ مِنْهَا شَيْئًا قَالَ فَأُرِىَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ زَيْدٍ الأَذَانَ فِى الْمَنَامِ فَأَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- فَأَخْبَرَهُ فَقَالَ « أَلْقِهِ عَلَى بِلاَلٍ ». فَأَلْقَاهُ عَلَى بِلاَلٍ فَأَذَّنَ بِلاَلٌ. قَالَ عَبْدُ اللَّهِ أَنَا رَأَيْتُهُ وَأَنَا كُنْتُ أُرِيدُهُ قَالَ « فَأَقِمْ أَنْتَ ».
950 ۔ محمد بن عبداللہ اپنے چچا حضرت عبداللہ بن زید کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مختلف صورتیں اختیار کرنے کا ارادہ کیا، لیکن ابھی آپ نے اس میں سے کسی کو بھی اختیار نہیں کیا تھا۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر حضرت عبداللہ بن زید کو خواب میں اذان کا طریقہ سکھایا گیا وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو آپ نے فرمایا تم یہ بلال کو بتاؤ، انھوں نے حضرت بلال کو بتایا تو حضرت بلال نے اذان دی، حضرت عبداللہ بیان کرتے ہیں میں انھیں دیکھ رہا تھا، میں خود یہ دینا چاہتا تھا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اقامت کہہ دو۔