985 - حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِىُّ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ بْنِ نَجْدَةَ حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ الْوَهْبِىُّ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ كَانَ أَبْعَدَ رَجُلَيْنِ مِنَ الأَنْصَارِ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- دَارًا أَبُو لُبَابَةَ بْنُ عَبْدِ الْمُنْذِرِ وَأَهْلُهُ بِقُبَاءَ وَأَبُو عَبْسِ بْنُ جَبْرٍ وَمَسْكَنُهُ فِى بَنِى حَارِثَةَ فَكَانَا يُصَلِّيَانِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- الْعَصْرَ ثُمَّ يَأْتِيَانِ قَوْمَهُمَا وَمَا صَلَّوْا لِتَعْجِيلِ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- بِهَا.
985 ۔ حضرت انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں : انصار میں سے سب سے زیادہ دور حضرت ابولبابہ کا گھر تھا، جو قباء میں تھا اور ابوعمیس کا گھر جو بنوحارثہ کے محلے میں تھا، یہ دونوں حضرات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اقتداء میں نماز ادا کرتے تھے پھر اپنی اپنی جگہ پہنچ جاتے تھے تو ان لوگوں نے ابھی نماز ادا نہیں کی ہوتی تھی اس کی وجہ یہی تھی کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جلد یہ نماز ادا کرلیا کرتے تھے۔