hadith book logo

Sunan Al Daraqutni: Hadith 998

.

سنن الدارقطني

998
Sunan Al Daraqutni
998 - حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الصَّوَّافُ بِالْبَصْرَةِ حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ بِشْرٍ الْحَارِثِىُّ حَدَّثَنَا بُرْدُ بْنُ سِنَانٍ عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِى رَبَاحٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ جِبْرِيلَ عَلَيْهِ السَّلاَمُ أَتَى النَّبِىَّ -صلى الله عليه وسلم- يُعَلِّمُهُ الصَّلاَةَ فَجَاءَهُ حِينَ زَالَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى الظُّهْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ صَارَ الظِّلُّ مِثْلَ قَامَةِ شَخْصِ الرَّجُلِ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى الْعَصْرَ ثُمَّ جَاءَهُ حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى الْمَغْرِبَ ثُمَّ ذَكَرَ بَاقِىَ الْحَدِيثِ وَقَالَ فِيهِ ثُمَّ أَتَاهُ الْيَوْمَ الثَّانِى حِينَ وَجَبَتِ الشَّمْسُ لِوَقْتٍ وَاحِدٍ فَتَقَدَّمَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ وَرَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- خَلْفَهُ وَالنَّاسُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- فَصَلَّى الْمَغْرِبَ وَقَالَ فِى آخِرِهِ ثُمَّ قَالَ « مَا بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ وَقْتٌ ». قَالَ فَسَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- عَنِ الصَّلاَةِ فَصَلَّى بِهِمْ كَمَا صَلَّى بِهِ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلاَمُ ثُمَّ قَالَ « أَيْنَ السَّائِلُ عَنِ الصَّلاَةِ مَا بَيْنَ الصَّلاَتَيْنِ وَقْتٌ ».
998 ۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آئے تاکہ آپ کو نماز کے بارے میں بتائیں وہ آپ کے پاس اس وقت آئے جب سورج ڈھل چکا تھا، حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آگے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے پھر آپ نے ظہر کی نماز ادا کی ، پھر حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آپ کے پاس اس وقت آئے جب آدمی کا سایہ اس کے قد کے برابر ہوگیا حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آگے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عصر کی نماز ادا کی پھر وہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا، حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) آگے کھڑے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے انھوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔
اس کے بعد انھوں نے باقی حدیث ذکر کی ہے ، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں :
اگلے دن حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس اس وقت آئے جب سورج غروب ہوچکا تھا یہ ایک ہی وقت تھا حضرت جبرائیل آگے ہوئے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کے پیچھے کھڑے ہوئے اور لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے کھڑے ہوئے انھوں نے مغرب کی نماز ادا کی۔
اس روایت کے آخر میں یہ ہے : حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے کہا ، ان دونوں نمازوں کے درمیان (نمازوں کا شرعی) وقت ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں ایک مربتہ ایک شخص نے نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نمازوں (کے اوقات) کے بارے میں دریافت کیا، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے لوگوں کو اس طرح نماز پڑھائی جس طرح حضرت جبرائیل (علیہ الصلوۃ والسلام) نے آپ کو پڑھائی تھی پھر نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : نماز کے بارے میں دریافت کرنے والاشخص کہاں ہے ؟ ان دونوں (اوقات کے) کے درمیان نماز کا وقت ہے۔