حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، أَخْبَرَنِي الْجُرَيْرِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، قَالَ، قُلْتُ لِعَائِشَةَ: أَيُّ أَصْحَابِهِ كَانَ أَحَبَّ إِلَيْهِ؟، قَالَتْ: أَبُو بَكْرٍ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّهُمْ قَالَتْ: عُمَرُ، قُلْتُ: ثُمَّ أَيُّهُمْ، قَالَتْ: أَبُو عُبَيْدَةَ .
عبداللہ بن شقیق کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے کہا : رسول اللہ ﷺ کے صحابہ میں آپ کو سب سے زیادہ کون محبوب تھا ؟ کہا : ابوبکر، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : عمر، میں نے پوچھا : پھر کون ؟ کہا : ابوعبیدہ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/المنا قب ١٤، (٣٦٥٧) ، (تحفة الأشراف : ١٦٢١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢١٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: خلاصہ یہ ہے کہ محبت کے مختلف وجوہ و اسباب ہوتے ہیں، چناچہ نبی ﷺ کی فاطمہ (رض) سے محبت بیٹی ہونے کے اعتبار سے اور ان کے زہد و عبادت کی وجہ سے تھی، اور عائشہ (رض) سے محبت زوجیت، دینی بصیرت، اور فہم و فراست کے سبب تھی، اور ابوبکر و عمر (رض) سے محبت اسلام میں سبقت، دین کی بلندی، علم کی زیادتی، شریعت کی حفاظت اور اسلام کی تائید کے سبب تھی، شیخین کے یہ کمالات و مناقب کسی پر پوشیدہ نہیں، اور ابوعبیدہ (رض) سے محبت اس لئے تھی کہ ان کے ہاتھ پر متعدد فتوحات اسلام ہوئیں۔