حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ زُهَيْرٍ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ مِقْسَمٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)يُوتِرُ بِسَبْعٍ أَوْ بِخَمْسٍ، لَا يَفْصِلُ بَيْنَهُنَّ بِتَسْلِيمٍ وَلَا كَلَامٍ.
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ سات یا پانچ رکعتیں وتر پڑھتے تھے، اور ان کے درمیان سلام اور کلام سے فصل نہیں کرتے تھے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/قیام اللیل ٣٥ (١٧١٥) ، (تحفةالأشراف : ١٨٢١٤) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الوتر ٥ (٤٥٧) ، مسند احمد (٦/٢٩٠، ٣١٠، ٣٢١) (ضعیف) (اس سند میں مقسم ہیں، اور ان کا سماع ام سلمہ (رض) سے نہیں ہے، لیکن عائشہ (رض) کی حدیث کی وجہ سے صحیح ہے، ملاحظہ ہو : سلسلة الاحادیث الصحیحة، للالبانی : ٢٩٦١ )