حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَنَا الْعَلَاءُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ الْمِنْهَالِ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ، قَالَ عَلِيٌّ: أَنَا عَبْدُ اللَّهِ، وَأَخُو رَسُولِهِ (ﷺ)، وَأَنَا الصِّدِّيقُ الأَكْبَرُ لا يَقُولُهَا بَعْدِي إِلا كَذَّابٌ، صَلَّيْتُ قَبْلَ النَّاسِ بِسَبْعِ سِنِينَ .
عباد بن عبداللہ کہتے ہیں کہ علی (رض) نے کہا : میں اللہ کا بندہ اور اس کے رسول ﷺ کا بھائی ہوں، اور میں صدیق اکبر ہوں، میرے بعد اس فضیلت کا دعویٰ جھوٹا شخص ہی کرے گا، میں نے سب لوگوں سے سات برس پہلے نماز پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠١٥٧، ومصباح الزجاجة : ٥١) (باطل) (سند میں عباد بن عبداللہ ضعیف اور متروک ر ١ وی ہے، اور اس کے بارے میں امام بخاری نے فرمایا : فيه نظر اور وہی حدیث کے بطلان کا سبب ہے، امام ذہبی نے فرمایا : یہ حدیث علی (رض) پر جھوٹ ہے، ملاحظہ ہو : الموضوعات لابن الجوزی : ١ /٣٤١، وتلخیص المستدرک للذہبی، وتنزیہ الشریعة : ١ /٣٨٦، وشیخ الاسلام ابن تیمیہ وجہودہ فی الحدیث وعلومہ : ٣١٠ ، للدکتور عبد الرحمن الفریوائی )