حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْأَزْهَرِ، حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، حَدَّثَنَا سَالِمٌ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: رُبَّمَا ذَكَرْتُ قَوْلَ الشَّاعِرِ، وَأَنَا أَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) عَلَى الْمِنْبَرِ، فَمَا نَزَلَ حَتَّى جَيَّشَ كُلُّ مِيزَابٍ بِالْمَدِينَةِ، فَأَذْكُرُ قَوْلَ الشَّاعِرِ: وَأَبْيَضَ يُسْتَسْقَى الْغَمَامُ بِوَجْهِهِ، ثِمَالُ الْيَتَامَى عِصْمَةٌ لِلْأَرَامِلِ، وَهُوَ قَوْلُ أَبِي طَالِبٍ.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ جب میں رسول اللہ ﷺ کے چہرہ مبارک کو منبر پہ دیکھتا تھا، تو اکثر مجھے شاعر کا یہ شعر یاد آجاتا تھا، آپ ابھی منبر سے اترے بھی نہیں کہ مدینہ کے ہر پر نالہ میں پانی زور سے بہنے لگا، وہ شعر یہ ہے : وہ سفید فام شخصیت (رسول اللہ ﷺ ) جس کے چہرے کے وسیلے سے بادل سے بارش مانگی جاتی ہے، یتیموں کا نگہبان، بیواؤں کا محافظ۔ یہ ابوطالب کا کلام ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الاستسقاء ٣ تعلیقاً وموصولا (١٠٠٩ عقیب حدیث عبد اللہ بن دینار) ، (تحفة الأشراف : ٦٧٧٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٩٣) (حسن )