حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الْمَسْجِدَ، فَسَمِعَ قِرَاءَةَ رَجُلٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟، فَقِيلَ: عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قَيْسٍ، فَقَالَ: لَقَدْ أُوتِيَ هَذَا مِنْ مَزَامِيرِ آلِ دَاوُدَ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ مسجد میں داخل ہوئے، وہاں آپ ﷺ نے ایک شخص کی قراءت سنی تو پوچھا : یہ کون ہے ؟ عرض کیا گیا : عبداللہ بن قیس ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : انہیں داؤد (علیہ السلام) کی خوش الحانی میں سے حصہ ملا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٥١١٩، ومصباح الزجاجة : ٤٧٣) ، وقد أخر جہ : سنن النسائی/الافتتاح ٨٣ (١٠٢٠) ، مسند احمد (٢/٣٥٤، ٣٦٩، ٤٥٠) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مزامیر: جمع ہے مزمار کی، مزمار کہتے ہیں ستار کو، یا بجانے کے آلہ کو، یہاں مزمار سے مراد خوش الحانی ہے، اور داود (علیہ السلام) بہت خوش الحان تھے۔