حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، عَنْأَبِيهِ، عن الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ مِنْهُ فَهُوَ رَدٌّ .
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی چیز ایجاد کی جو اس میں سے نہیں ہے، تو وہ قابل رد ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلح ٥ (٢٦٩٧) ، صحیح مسلم/الأقضیة ٨ (١٧١٨) ، سنن ابی داود/السنة ٦ (٤٦٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٧٣، ١٤٦، ١٨٠، ٢٤٠، ٢٥٦، ٢٧٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ ایک اہم شرعی ضابطہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جس کام پر کتاب اور سنت صحیحہ کی کوئی دلیل نہ ہو، اور صحابہ و تابعین اور خیر القرون کے تعامل سے وہ محروم ہو تو وہ بدعت ہے۔