حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، حَدَّثَتْنِي حَفْصَةُ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ، بِمِثْلِ حَدِيثِ مُحَمَّدٍ، وَكَانَ فِي حَدِيثِ حَفْصَةَاغْسِلْنَهَا وِتْرًا، وَكَانَ فِيهِ اغْسِلْنَهَا ثَلَاثًا، أَوْ خَمْسًا، وَكَانَ فِيهِ ابْدَءُوا بِمَيَامِنِهَا، وَمَوَاضِعِ الْوُضُوءِ مِنْهَا، وَكَانَ فِيهِ أَنَّ أُمَّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: وَامْشِطْنَهَا ثَلَاثَةَ قُرُونٍ.
اس سند سے بھی ام عطیہ (رض) سے محمد بن سیرین کی سابقہ حدیث کی طرح مروی ہے اور حفصہ (رض) کی روایت میں یہ ہے کہ : ان کو طاق بار غسل دو ، اور اس میں یہ بھی ہے کہ : انہیں تین بار یا پانچ بار غسل دو ، اور دائیں طرف کے اعضاء وضو سے غسل شروع کرو ۔ اور اس روایت میں یہ بھی ہے کہ ام عطیہ (رض) نے کہا : ہم نے ان کے بالوں میں کنگھی کر کے تین چوٹیاں کردیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الجنائز ٩ (١٢٥٤) ، ١٣ (١٢٥٨) ، صحیح مسلم/الجنائز ١٢ (٩٣٩) ، سنن النسائی/الجنائز ٣٤ (١٨٨٩) ، (تحفة الأشراف : ١٨١١٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: امام ابن القیم نے کہا کہ بالوں میں سنت یہی ہے کہ ان کی تین چوٹیاں کی جائیں، صحیحین میں ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : ان کے بالوں کی تین چوٹیاں کر دو ، ام عطیہ (رض) نے کہا کہ ہم نے ان کا سر گوندھا، دو حصے کر کے دونوں چھاتیوں پر ڈال دیئے۔