حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ): كَانَ يَجْمَعُ بَيْنَ الرَّجُلَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ مِنْ قَتْلَى أُحُدٍ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ، ثُمَّ يَقُولُ: أَيُّهُمْ أَكْثَرُ أَخْذًا لِلْقُرْآنِ، فَإِذَا أُشِيرَ لَهُ إِلَى أَحَدِهِمْ قَدَّمَهُ فِي اللَّحْدِ، وَقَالَ: أَنَا شَهِيدٌ عَلَى هَؤُلَاءِ، وَأَمَرَ بِدَفْنِهِمْ فِي دِمَائِهِمْ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِمْ، وَلَمْ يُغَسَّلُوا.
جابر بن عبداللہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ غزوہ احد کے شہداء میں سے دو دو تین تین کو ایک کپڑے میں لپیٹتے، پھر پوچھتے : ان میں سے قرآن کس کو زیادہ یاد ہے ؟ جب ان میں سے کسی ایک کی جانب اشارہ کیا جاتا، تو اسے قبر (قبلہ کی طرف) میں آگے کرتے، اور فرماتے : میں ان لوگوں پہ گواہ ہوں، ، اور آپ ﷺ نے انہیں ان کے خونوں کے ساتھ دفن کرنے کا حکم دیا، نہ تو آپ نے ان کی نماز جنازہ پڑھی، اور نہ غسل دلایا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجنائز ٧٢ (١٣٤٣) ، ٧٣ (١٢٤٥) ، ٧٥ (١٣٤٧) ، ٧٨ (١٣٥٣) ، المغازي ١٢٦ (٤٠٧٩) ، سنن ابی داود/ الجنائز ٣١ (٣١٣٨، ٣١٣٩) ، سنن الترمذی/الجنائز ٤٦ (١٠٣٦) ، سنن النسائی/الجنائز ٦٢ (١٩٥٧) ، (تحفة الأشراف : ٢٣٨٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ شہداء کو غسل نہیں دیا جائے گا، اس پر سب کا اتفاق ہے، نیز امام احمد کی روایت میں ہے کہ آپ ﷺ نے شہیدوں کو غسل دینے سے منع کیا، اور فرمایا : اس کا زخم قیامت کے دن مشک کی خوشبو چھوڑے گا اور حنظلہ (رض) جنابت کی حالت میں شہید ہوئے تھے، جب بھی نبی اکرم ﷺ نے ان کو غسل نہیں دیا، اور فرمایا : فرشتے ان کو غسل دیتے ہیں ۔