حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ حَمْزَةَ، عَنْ سَالِمٍ: أَنَّ شَاعِرًا مَدَحَ بِلَالَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، فَقَالَ: بِلَالُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: كَذَبْتَ لَا، بَلْ بِلَالُ رَسُولِ اللَّهِ خَيْرُ بِلَالٍ .
سالم سے روایت ہے کہ ایک شاعر نے بلال بن عبداللہ کی مدح سرائی کی، اور مصرعہ کہا : بلال بن عبد الله خير بلال بلال بن عبداللہ بلالوں میں سب سے بہتر ہیں ، تو ابن عمر (رض) نے کہا : تم غلط کہہ رہے ہو، ایسا نہیں ہے، بلکہ رسول اللہ ﷺ کے بلال بلالوں میں سب سے افضل اور بہتر ہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٦٧٨١، ومصباح الزجاجة : ٥٩) (ضعیف) (عمر بن حمزہ ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎: بلال بن عبداللہ سے مراد عبداللہ بن عمر (رض) کے صاحبزادے بلال ہیں۔