حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، وَعُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ رَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ جُنَادَةَ بْنِ أَبِي أُمَيَّةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِذَا اتَّبَعَ جِنَازَةً لَمْ يَقْعُدْ حَتَّى تُوضَعَ فِي اللَّحْدِ، فَعَرَضَ لَهُ حَبْرٌ، فَقَالَ: هَكَذَا نَصْنَعُ يَا مُحَمَّدُ؟ فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، وَقَالَ: خَالِفُوهُمْ.
عبادہ بن صامت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ جب کسی جنازے کے پیچھے چلتے تو اس وقت تک نہ بیٹھتے جب تک کہ اسے قبر میں نہ رکھ دیا جاتا، ایک یہودی عالم آپ کے سامنے آیا، اور کہا : اے محمد ! ہم بھی ایسے ہی کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے بیٹھنا شروع کردیا، اور فرمایا : ان کی مخالفت کرو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الجنائز ٤٧ (٣١٧٦) ، سنن الترمذی/الجنائز ٣٥ (١٠٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٥٠٧٦) (حسن) (تراجع الألبانی : رقم : ٤٣٧ ) وضاحت : ١ ؎: اس سے معلوم ہوا کہ پہلے نبی اکرم ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو جنازہ دیکھ کر کھڑے ہوجانے کا حکم دیا تھا، پھر جب آپ کو یہ معلوم ہوا کہ یہود بھی ایسا کرتے ہیں تو آپ نے ان کی مخالفت کا حکم دیا جس سے سابق حکم منسوخ ہوگیا۔