حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُصَفَّى الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ سَلْمَانَ، عَنْ دِينَارٍ أَبِي عُمَرَ، عَنِ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ، عَنْ عَلِيٍّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فَإِذَا نِسْوَةٌ جُلُوسٌ، فَقَالَ: مَا يُجْلِسُكُنَّ؟، قُلْنَ: نَنْتَظِرُ الْجِنَازَةَ، قَالَ: هَلْ تَغْسِلْنَ؟، قُلْنَ: لَا، قَالَ: هَلْ تَحْمِلْنَ؟، قُلْنَ: لَا، قَالَ: هَلْ تُدْلِينَ فِيمَنْ يُدْلِي؟، قُلْنَ: لَا، قَالَ: فَارْجِعْنَ مَأْزُورَاتٍ غَيْرَ مَأْجُورَاتٍ.
علی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نکلے اور کئی عورتیں بیٹھی ہوئی تھیں، آپ نے پوچھا : تم لوگ کیوں بیٹھی ہوئی ہو ؟ انہوں نے کہا : ہم جنازے کا انتظار کر رہی ہیں، آپ نے پوچھا : کیا تم لوگ جنازے کو غسل دو گی ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : کیا اسے اٹھاؤ گی ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے پوچھا : کیا تم بھی ان لوگوں کے ساتھ جنازہ قبر میں اتارو گی جو اسے اتاریں گے ؟ انہوں نے کہا : نہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ گناہ گار ہو کر ثواب سے خالی ہاتھ (اپنے گھروں کو) واپس جاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٢٦٩، ومصباح الزجاجة : ٥٦٦) (ضعیف) (اس کی سند میں دینار ابو عمر اور اسماعیل بن سلمان ضعیف ہیں، ابن الجوزی نے اس حدیث کو العلل المتناہیہ میں ذکر کیا ہے، نیز ملاحظہ ہو : ١ لضعیفہ : ٢٧٤٢ )