حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ، قَالَ: مَا حَجَبَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) مُنْذُ أَسْلَمْتُ، وَلَا رَآنِي إِلَّا تَبَسَّمَ فِي وَجْهِي، وَلَقَدْ شَكَوْتُ إِلَيْهِ أَنِّي لَا أَثْبُتُ عَلَى الْخَيْلِ، فَضَرَبَ بِيَدِهِ فِي صَدْرِي، فَقَالَ: اللَّهُمَّ ثَبِّتْهُ وَاجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا.
جریر بن عبداللہ بجلی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے پاس آنے سے نہیں روکا، اور جب بھی مجھے دیکھا میرے روبرو مسکرائے اور میں نے آپ ﷺ سے شکایت کی کہ میں گھوڑے پر ٹک نہیں پاتا (گر جاتا ہوں) تو آپ ﷺ نے اپنا ہاتھ میرے سینے پہ مارا اور دعا فرمائی : اے اللہ ! اس کو ثابت رکھ اور اسے ہدایت کنندہ اور ہدایت یافتہ بنا دے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الجہاد ١٥٤ (٣٠٣٥) ، الأدب ٦٨ (٦٠٨٩) ، مناقب الأنصار ٢١ (٣٨٢٢) ، صحیح مسلم/فضائل الصحابة ٢٩ (٢٤٧٥) ، سنن الترمذی/ المناقب ٤٢ (٣٨٢٠) ، (تحفة الأشراف : ٣٢٢٤) ، مسند احمد (٤/٣٥٨، ٣٥٩، ٣٦٢، ٣٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جریر (رض) دراز قد، خوبصورت اور حسین و جمیل تھے، عمر (رض) ان کو اس امت کا یوسف کہا کرتے تھے۔