حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَنْبَأَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ): مَرَّ بِنِسَاءِ عَبْدِ الْأَشْهَلِ يَبْكِينَ هَلْكَاهُنَّ يَوْمَ أُحُدٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَكِنَّ حَمْزَةَ لَا بَوَاكِيَ لَهُ، فَجَاءَ نِسَاءُ الْأَنْصَارِ يَبْكِينَ حَمْزَةَ، فَاسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: وَيْحَهُنَّ مَا انْقَلَبْنَ بَعْدُ مُرُوهُنَّ، فَلْيَنْقَلِبْنَ وَلَا يَبْكِينَ عَلَى هَالِكٍ بَعْدَ الْيَوْمِ.
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (قبیلہ) عبدالاشہل کی عورتوں کے پاس سے گزرے، وہ غزوہ احد کے شہداء پر رو رہی تھیں، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : لیکن حمزہ پر کوئی بھی رونے والا نہیں ، یہ سن کر انصار کی عورتیں آئیں، اور حمزہ (رض) پر رونے لگیں، رسول اللہ ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، تو فرمایا : ان عورتوں کا برا ہو، ابھی تک یہ سب عورتیں واپس نہیں گئیں ؟ ان سے کہو کہ لوٹ جائیں اور آج کے بعد کسی بھی مرنے والے پر نہ روئیں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٧٤٩١، ومصباح الزجاجة : ٥٧٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٤٠، ٨٤، ٩٢) (حسن صحیح) (اسامہ بن زید ضعیف الحفظ ہیں، لیکن شواہد کی بناء پر یہ صحیح ہے )