حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرٍو، عَنْ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: إِنَّمَا كَانَتْ يَهُودِيَّةٌ مَاتَتْ، فَسَمِعَهُمُ النَّبِيُّ (ﷺ) يَبْكُونَ عَلَيْهَا، قَالَ: فَإِنَّ أَهْلَهَا يَبْكُونَ عَلَيْهَا، وَإِنَّهَا تُعَذَّبُ فِي قَبْرِهَا.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ایک یہودی عورت کا انتقال ہوگیا، تو نبی اکرم ﷺ نے یہودیوں کو اس پر روتے ہوئے سنا، تو فرمایا : اس کے گھر والے اس پر رو رہے ہیں جب کہ اسے قبر میں عذاب ہو رہا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٦٢٥٩) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الجنائز ٣٢ (١٢٨٩) ، صحیح مسلم/الجنائز ٩ (٩٣٢) ، سنن الترمذی/الجنائز ٢٥ (١٠٠٤) ، سنن النسائی/الجنائز ١٥ (١٨٥٧) ، موطا امام مالک/الجنائز ١٢ (٣٧) ، مسند احمد (٦/١٠٧، ٢٥٥) (صحیح )