حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى النَّيْسَابُورِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: لَا تَمْنَعُوا إِمَاءَ اللَّهِ أَنْ يُصَلِّينَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ ابْنٌ لَهُ: إِنَّا لَنَمْنَعُهُنَّ، فَقَالَ: فَغَضِبَ غَضَبًا شَدِيدًا، وَقَالَ: إِنِّي أُحَدِّثُكَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَإِنَّكَ تَقُولُ: إِنَّا لَنَمْنَعُهُنَّ؟.
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم اللہ کی بندیوں (عورتوں) کو مسجد میں نماز پڑھنے سے نہ روکو ، تو ان کے ایک بیٹے نے ان سے کہا : ہم تو انہیں ضرور روکیں گے، یہ سن کر ابن عمر (رض) سخت ناراض ہوئے اور بولے : میں تم سے رسول اللہ ﷺ کی حدیث بیان کر رہا ہوں اور تم کہتے ہو کہ ہم انہیں ضرور روکیں گے ؟ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٦٦ (٨٧٣) ، والنکاح ١١٧ (٥٢٣٨) ، (تحفة الأشراف : ٦٩٤٣) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الصلاة ٣٠ (٤٤٢) ، سنن ابی داود/الصلاة ٥٣ (٥٦٦) ، سنن الترمذی/الصلاة ٢٨٣ (٥٧٠) ، سنن النسائی/المساجد ١٥ (٧٠٧) ، موطا امام مالک/القبلة ٦ (١٢) ، مسند احمد (٢/٧، ١٥١) ، سنن الدارمی/الصلاة ٥٧ (١٣١٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: گویا تم اپنے آپ کو رسول اللہ ﷺ کے مدمقابل لا رہے ہو، مسند احمد ( ٢ /٦٣) میں ہے کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے زندگی بھر اس لڑکے سے بات نہیں کی۔