(حديث موقوف) (حديث موقوف) وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَنَسٍ، أَنَّ فَاطِمَةَ، قَالَتْ حِينَ قُبِضَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): وَا أَبَتَاهُ إِلَى جِبْرَائِيلَ أَنْعَاهُ، وَا أَبَتَاهُ مِنْ رَبِّهِ مَا أَدْنَاهُ، وَا أَبَتَاهُ جَنَّةُ الْفِرْدَوْسِ مَأْوَاهُ، وَا أَبَتَاهُ أَجَابَ رَبًّا دَعَاهُ، قَالَ حَمَّادٌ: فَرَأَيْتُ ثَابِتًا حِينَ حَدَّثَ بِهَذَا الْحَدِيثِ بَكَى حَتَّى رَأَيْتُ أَضْلَاعَهُ تَخْتَلِفُ.
انس (رض) نے کہا : جب نبی اکرم ﷺ کی وفات ہوئی، تو فاطمہ (رض) نے کہا : ہائے میرے والد، میں جبرائیل کو ان کے مرنے کی خبر دیتی ہوں، ہائے میرے والد، اپنے رب کے کتنے نزدیک ہوگئے، ہائے میرے والد، جنت الفردوس میں ان کا ٹھکانہ ہے، ہائے میرے والد، اپنے رب کا بلانا قبول کیا۔ حماد نے کہا : میں نے ثابت کو دیکھا کہ اس حدیث کو بیان کرنے کے بعد روئے یہاں تک کہ ان کی پسلیاں اوپر نیچے ہونے لگیں۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المغازي ٨٣ (٤٤٤٨) ، (تحفة الأشراف : ٣٠٢) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/المقدمة ١٤ (٨٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: نبی اکرم ﷺ کی وفات کے چھ ماہ بعد ا ٓ پ کی صاحبزادی فاطمہ (رض) کا انتقال ا ٓ پ کی پیش گوئی کے مطابق ہوگیا، اور چہیتی بیٹی اپنے باپ سے جا ملیں، اب کوئی یہ نہ سمجھے کہ فاطمہ (رض) نے جو یہ کلمات سخت رنج کی حالت میں فرمائے یہ نیاحت میں داخل ہیں جب کہ وہ منع ہے واضح رہے کہ نیاحت وہ ہے جو چلا کر بلند ا ٓ واز سے ہو، نہ وہ جو ا ٓ ہستہ سے کہا جائے، اور اگر یہ نیاحت ہوتی تو فاطمہ (رض) اسے ہرگز نہ کرتیں۔