حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدِّمَشْقِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْسَهْلِ بْنِ سَعْدٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) قَالَ: إِنَّ فِي الْجَنَّةِ بَابًا، يُقَالُ لَهُ: الرَّيَّانُ يُدْعَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، يُقَالُ: أَيْنَ الصَّائِمُونَ؟ فَمَنْ كَانَ مِنَ الصَّائِمِينَ دَخَلَهُ، وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا.
سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہے، قیامت کے دن پکارا جائے گا، کہا جائے گا روزہ دار کہاں ہیں ؟ تو جو روزہ داروں میں سے ہوگا وہ اس دروازے سے داخل ہوگا اور جو اس میں داخل ہوگا وہ کبھی پیاسا نہ ہوگا ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الصوم ٥٥ (٧٦٥) ، (تحفة الأشراف : ٤٧٧١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم ٤ (١٨٩٦) ، بدأالخلق ٩ (٣٢٥٧) ، صحیح مسلم/الصوم ٣٠ (١١٥٢) ، کلاھمادون جملة الظمأ، سنن النسائی/الصیام ٤٣ (٢٢٣٨) ، مسند احمد (٥/٣٣٣، ٣٣٥) (صحیح) (وَمَنْ دَخَلَهُ لَمْ يَظْمَأْ أَبَدًا کا جملہ صحیح نہیں ہے، تراجع الألبانی : رقم : ٣٥١ )