حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: صَامَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) فِي السَّفَرِ وَأَفْطَرَ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سفر میں روزہ رکھا بھی ہے، اور نہیں بھی رکھا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٣٨ (١٩٤٨) ، صحیح مسلم/الصوم ١٥ (١١١٣) ، سنن النسائی/الصوم ٣١ (٢٢٩٣) ، (تحفة الأشراف : ٦٤٢٥) ، وقد أخرجہ : سنن ابی داود/الصوم ٤٢ (٢٤٠٤) ، موطا امام مالک/الصیام ٧ (٢١) ، مسند احمد (١/٢٤٤، ٣٥٠) ، سنن الدارمی/الصوم ١٥ (١٧٤٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ سفر میں روزہ رکھنے کے سلسلہ میں اختیار ہے چاہے رکھے یا نہ رکھے، اور آگے جو باب آ رہا ہے اس کی حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھنا افضل ہے، اس لئے بہتر یہی ہے کہ سفر میں روزہ نہ رکھا جائے۔