حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمُنْذِرِ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ، تَقُولُ: إِنْ كَانَ لَيَكُونُ عَلَيَّ الصِّيَامُ مِنْ شَهْرِ رَمَضَانَ فَمَا أَقْضِيهِ حَتَّى يَجِيءَ شَعْبَانُ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میرے اوپر رمضان کے روزے ہوتے تھے میں ان کی قضاء نہیں کر پاتی تھی یہاں تک کہ شعبان کا مہینہ آجاتا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٤٠ (١٩٥٠) ، صحیح مسلم/الصوم ٢٦ (١١٤٦) ، سنن ابی داود/الصوم ٤٠ (٢٣٩٩) ، سنن النسائی/الصیام ٣٦ (٢٣٢١) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٧٧) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الصیام ٢٠ (٥٤) ، مسند احمد (٦/١٢٤، ١٧٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جب شعبان کا مہینہ آتا تو نبی اکرم ﷺ بھی اس مہینہ میں بہت روزے رکھتے، ام المومنین عائشہ (رض) بھی قضا کرتیں، اور قضا میں دیر کرنے کی وجہ یہ ہوتی کہ نبی کریم ﷺ کو عائشہ (رض) کی محبت بہت تھی، پہلے روزے رکھنے سے اندیشہ تھا کہ نبی کریم ﷺ کو تکلیف ہوگی۔