حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: دَخَلَ الْأَسْوَدُ، وَمَسْرُوقٌ عَلَى عَائِشَةَ، فَقَالَا: أَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُبَاشِرُ وَهُوَ صَائِمٌ؟، قَالَتْ: كَانَ يَفْعَلُ، وَكَانَ أَمْلَكَكُمْ لِإِرْبِهِ.
اسود اور مسروق ام المؤمنین عائشہ (رض) کے پاس گئے، اور پوچھا کیا رسول اللہ ﷺ روزے کی حالت میں مباشرت کرتے (ساتھ سوتے) تھے ؟ ، انہوں نے کہا : ہاں، آپ ایسا کرتے تھے، اور آپ تم سب سے زیادہ اپنی خواہش پر قابو رکھنے والے آدمی تھے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصوم ١٢ (١١٠٦) ، (تحفة الأشراف : ١٥٩٧٢) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم ٢٣ (١٩٢٧) ، سنن الترمذی/الصوم ٣٢ (٧٢٨) ، سنن الدارمی/الطہارة ٨١ (٧٩٦) (صحیح )