حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ، أَنْبَأَنَا اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ ذُكِرَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) يَوْمُ عَاشُورَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): كَانَ يَوْمًا يَصُومُهُ أَهْلُ الْجَاهِلِيَّةِ، فَمَنْ أَحَبَّ مِنْكُمْ أَنْ يَصُومَهُ فَلْيَصُمْهُ، وَمَنْ كَرِهَهُ فَلْيَدَعْهُ .
عبداللہ بن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس عاشوراء (محرم کی دسویں تاریخ) کا ذکر کیا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : یہ وہ دن ہے جس میں دور جاہلیت کے لوگ روزہ رکھتے تھے، لہٰذا تم میں سے جو روزہ رکھنا چاہے تو رکھے، اور جو نہ چاہے نہ رکھے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الصوم ٢٠ (١١٢٦) ، (تحفة الأشراف : ٨٢٨٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الصوم ٦٩ (٢٠٠٢) ، سنن ابی داود/الصوم ٦٤ (٢٤٤٣) ، مسند احمد (٢/٥٧) ، سنن الدارمی/الصوم ٤٦ (١٨٠٣) (صحیح )