حَدَّثَنَا جُبَارَةُ بْنُ الْمُغَلِّسِ، حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) لَا يَخْرُجُ يَوْمَ الْفِطْرِ حَتَّى يَطْعَمَ تَمَرَاتٍ .
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید الفطر کے دن چند کھجوریں کھائے بغیر عید کے لیے نہیں نکلتے تھے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/العیدین ٤ (٩٥٣) ، (تحفة الأشراف : ١٠٨٢) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الصلاة ٢٧٣ (٥٤٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١٢٦، ٢٣٢) (صحیح) (سند میں جبارہ بن مغلس ضعیف راوی ہے، لیکن سعید بن سلیمان نے صحیح بخاری میں ان کی متابعت کی ہے ) وضاحت : ١ ؎: عید الفطر کے دن نماز سے پہلے کچھ کھا لینا سنت ہے، اگر کھجوریں ہوں تو بہتر ہے، ورنہ جو میسر ہو کھائے۔