حدیث نمبر: 1768حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الزُّهْرِيُّ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عُبَيْدِ بْنِ نِسْطَاسٍ، عَنْ أَبِي الضُّحَى، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ (ﷺ) إِذَا دَخَلَتِ الْعَشْرُ أَحْيَا اللَّيْلَ، وَشَدَّ الْمِئْزَرَ، وَأَيْقَظَ أَهْلَهُ .
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ جب رمضان کا آخری عشرہ (دہا) آتا تو نبی اکرم ﷺ رات کو جاگتے اور کمر کس لیتے، اور اپنے گھر والوں کو جگاتے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/لیلة القدر ٥ (٢٠٢٤) ، صحیح مسلم/الاعتکاف ٣ (١١٧٤) ، سنن ابی داود/الصلاة ٣١٨ (١٣٧٦) ، سنن النسائی/قیام اللیل ١٥ (١٦٤٠) ، (تحفة الأشراف : ١٧٦٣٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: یہ یا عبادت کے لیے کمر کس لینے یا عورتوں سے بچنے اور دور رہنے سے کنایہ ہے۔