حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّبَّاحُ، حَدَّثَنَا عَفَّانُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ: اعْتَكَفَتْ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) امْرَأَةٌ مِنْ نِسَائِهِ، فَكَانَتْ تَرَى الْحُمْرَةَ، وَالصُّفْرَةَ، فَرُبَّمَا وَضَعَتْ تَحْتَهَا الطَّسْتَ .
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ آپ کی بیویوں میں سے کسی نے اعتکاف کیا، تو وہ سرخی اور زردی دیکھتی تھیں، تو کبھی اپنے نیچے طشت رکھ لیتی تھیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الحیض ١٠ (٣٠٩) ، الاعتکاف ١٠ (٢٠٣٧) ، سنن ابی داود/الصوم ٨١ (٢٤٧٦) ، (تحفة الأشراف : ١٧٣٩٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣١) ، سنن الدارمی/الطہارة ٩٣ (٩٠٦) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: جب خون حیض والے مقررہ دنوں سے زیادہ ہوجائے تو وہ استحاضہ ہے، مستحاضہ کو صوم و صلاۃ سب ادا کرنا چاہیے جیسا کہ اوپر گزرا، اس کا اعتکاف کرنا بھی صحیح ہے۔