حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، قَالَ: بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) إِلَى الْيَمَنِ، وَأَمَرَنِي أَنْ آخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ تَبِيعًا، أَوْ تَبِيعَةً .
معاذ بن جبل (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھے یمن بھیجا، اور حکم دیا کہ ہر چالیس گائے میں ایک مسنة لوں، اور ٣٠ تیس گائے میں ایک تبیع یا تبیعہ لوں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الزکاة ٤ (١٥٧٧) ، سنن الترمذی/الزکاة ٥ (٦٢٣) ، سنن النسائی/الزکاة ٨ (٢٤٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١١٣٦٣) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/الزکاة ١٢ (٢٤) ، مسند احمد (٥/٢٣٠، ٢٣٣، ٢٤٧) ، سنن الدارمی/الزکاة ٥ (١٦٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: مسنة ایسی گائے جو دو سال پورے کر کے تیسرے میں داخل ہوگئی ہو۔ اور اس کے سامنے والے دانت گر کر دوبارہ نکل آئے ہوں۔ ٢ ؎:تبیع گائے کا وہ بچھڑا جو ایک سال پورا کرکے دوسرے میں داخل ہوگیا ہو۔ ٣ ؎: تبیعہ گائے کی وہ بچھڑی جو ایک سال پورے کر کے دوسرے میں داخل ہوگئی ہو۔