حَدَّثَنَا أَبُو بِشْرٍ بَكْرُ بْنُ خَلَفٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنِي صَالِحُ بْنُ أَبِي عَرِيبٍ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ، عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، وَقَدْ عَلَّقَ رَجُلٌ أَقْنَاءَ، أَوْ قِنْوًا، وَبِيَدِهِ عَصًا فَجَعَلَ يَطْعَنُ بِذَلِكَ، يُدَقْدِقُ فِي ذَلِكَ الْقِنْوِ، وَيَقُولُ: لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا، إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ يَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ .
عوف بن مالک اشجعی (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ گھر سے نکلے، اور ایک شخص نے کھجور کے کچھ خوشے مسجد میں لٹکا دئیے تھے، آپ کے ہاتھ میں چھڑی تھی، آپ ﷺ اس خوشہ میں اس چھڑی سے کھٹ کھٹ مارتے جاتے، اور فرماتے : اگر یہ زکاۃ دینے والا چاہتا تو اس سے بہتر زکاۃ دیتا، یہ زکاۃ والا قیامت کے دن خراب ہی کھجور کھائے گا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الزکاة ١٦ (١٦٠٨) ، سنن النسائی/الزکاة ٢٧ (٢٤٩٥) ، (تحفة الأشراف : ١٠٩١٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٣، ٢٨) (حسن ) وضاحت : ١ ؎: یعنی جیسا دیا ویسا پائے گا، اللہ تعالیٰ غنی و بےپرواہ ہے، اس کے نام پر تو بہت عمدہ مال دینا چاہیے، وہ نیت کو دیکھتا ہے۔