حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الْمُصْطَلِقِ ابْنِ أَخِي زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَتْ: سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) أَيُجْزِئُ عَنِّي مِنَ الصَّدَقَةِ النَّفَقَةُ عَلَى زَوْجِي، وَأَيْتَامٍ فِي حِجْرِي؟، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَهَا أَجْرَانِ، أَجْرُ الصَّدَقَةِ، وَأَجْرُ الْقَرَابَةِ. حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، حَدَّثَنَا الْأَعْمَشُ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ابْن أَخِي زَيْنَبَ، عَنْ زَيْنَبَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، نَحْوَهُ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی زینب (رض) کہتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اگر میں اپنے شوہر اور زیر کفالت یتیم بچوں پر خرچ کروں تو کیا زکاۃ ہوجائے گی ؟ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کو دہرا اجر ملے گا، ایک صدقے کا اجر، دوسرے رشتہ جوڑنے کا اجر ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الزکاة ٤٨ (١٤٦٦) ، صحیح مسلم/الزکاة ١٤ (١٠٠٠) ، سنن الترمذی/الزکاة ١٢ (٦٣٥، ٦٣٦) ، سنن النسائی/الزکاة ٨٢ (٢٥٨٤) ، (تحفة الأشراف : ١٥٨٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٥٠٢، ٣٦٣) ، سنن الدارمی/الزکاة ٢٣ (١٦٩٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: معلوم ہوا کہ اگر زکاۃ اپنے غریب و مفلس فاقے والے رشتہ دار کو دے یا بیوی شوہر کو دے تو اور زیادہ ثواب ہے، اور زکاۃ بھی ادا ہوجائے گی۔ اس سند سے بھی عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی زینب (رض) سے اسی جیسی روایت مرفوعاً آئی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ