حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: تَزَوَّجْتُ امْرَأَةً عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، فَلَقِيتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: أَتَزَوَّجْتَ يَا جَابِرُ؟، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: أَبِكْرًا، أَوْ ثَيِّبًا؟، قُلْتُ: ثَيِّبًا، قَالَ: فَهَلَّا بِكْرًا تُلَاعِبُهَا، قُلْتُ: كُنَّ لِي أَخَوَاتٌ، فَخَشِيتُ أَنْ تَدْخُلَ بَيْنِي وَبَيْنَهُنَّ، قَالَ: فَذَاكَ إِذًا.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کے زمانہ میں ایک عورت سے شادی کی، پھر میں رسول اللہ ﷺ سے ملا، تو آپ نے فرمایا : جابر ! کیا تم نے شادی کرلی ؟ میں نے کہا : جی ہاں ! آپ ﷺ نے پوچھا : کنواری سے یا غیر کنواری سے ؟ میں نے کہا : غیر کنواری سے، آپ ﷺ نے فرمایا : شادی کنواری سے کیوں نہیں کی کہ تم اس کے ساتھ کھیلتے کودتے ؟ میں نے کہا : میری کچھ بہنیں ہیں، تو میں ڈرا کہ کہیں کنواری لڑکی آ کر ان میں اور مجھ میں دوری کا سبب نہ بن جائے، آپ ﷺ نے فرمایا : اگر ایسا ہے تو ٹھیک ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ١٦ (٧١٥) ، سنن النسائی/النکاح ٦ (٣٢٢١) ، ١٠ (٣٢٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٣٦) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع ٣٤ (٢٠٩٧) ، الوکالة ٨ (٢٤٠٩) ، الجہاد ١١٣ (٢٩٦٧) ، المغازي ١٨ (٤٠٥٢) ، النکاح ١٠ (٥٠٧٩) ، ١٢١ (٥٢٤٥) ، ١٢٢ (٥٢٤٧) ، النفقات ١٢ (٥٣٦٧) ، الدعوات ٥٣ (٦٣٨٧) ، سنن ابی داود/النکاح ٣ (٢٠٤٨) ، سنن الترمذی/النکاح ١٣ (١١٠٠) ، مسند احمد (٣/٢٩٤، ٣٠٢، ٣٠٨، ٣١٤، ٣٦٢، ٣٦٩، ٣٧٤، ٣٧٦) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٢ (٢٢٦٢) (صحیح )