حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: سَأَلْتُ عَائِشَةَ كَمْ كَانَ صَدَاقُ نِسَاءِ النَّبِيِّ (ﷺ)؟، قَالَتْ: كَانَ صَدَاقُهُ فِي أَزْوَاجِهِ اثْنَتَيْ عَشْرَةَ أُوقِيَّةً، وَنَشًّا هَلْ تَدْرِي مَا النَّشُّ؟ هُوَ نِصْفُ أُوقِيَّةٍ، وَذَلِكَ خَمْسُ مِائَةِ دِرْهَمٍ.
ابوسلمہ کہتے ہیں کہ میں نے ام المؤمنین عائشہ (رض) سے پوچھا : نبی اکرم ﷺ کی بیویوں کا مہر کیا تھا ؟ انہوں نے کہا : آپ ﷺ کی بیویوں کا مہر بارہ اوقیہ اور ایک نش تھا، تم جانتے ہو نش کیا ہے ؟ یہ آدھا اوقیہ ہے، یہ کل پانچ سو درہم ہوئے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/النکاح ١٣ (١٤٢٦) ، سنن ابی داود/النکاح ٢٩ (٢١٠٥) ، سنن النسائی/النکاح ٦٦ (٣٣٤٧) ، (تحفة الأشراف : ١٧٧٣٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٩٤) ، سنن الدارمی/النکاح ١٨ (٢٢٤٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: ایک اوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے، ساڑھے بارہ اوقیہ کے کل پانچ سو درہم ہوئے۔