حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَشْعَثُ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، أَنَّهُ تَزَوَّجَ امْرَأَةً مِنْ بَنِي جُشَمَ، فَقَالُوا: بِالرَّفَاءِ وَالْبَنِينَ، فَقَالَ: لَا تَقُولُوا هَكَذَا، وَلَكِنْ قُولُوا كَمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُمْ، وَبَارِكْ عَلَيْهِمْ.
عقیل بن ابی طالب (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے قبیلہ بنی جشم کی ایک عورت سے شادی کی، تو لوگوں نے (جاہلیت کے دستور کے مطابق) یوں کہا :بالرفاء والبنين میاں بیوی میں اتفاق رہے اور لڑکے پیدا ہوں تو آپ نے کہا : اس طرح مت کہو، بلکہ وہ کہو، جو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا :اللهم بارک لهم و بارک عليهم اے اللہ ! ان کو برکت دے اور اس برکت کو قائم و دائم رکھ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ١٠٠١٤) ، وقد أخرجہ : سنن النسائی/النکاح ٧٣ (٣٣٧٣) ، مسند احمد (١/٢٠١، ٣/ ٤٥١) (صحیح )