حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِيِّ، قَالَ: دَعَا أَبُو أُسَيْدٍ السَّاعِدِيُّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) إِلَى عُرْسِهِ، فَكَانَتْ خَادِمَهُمُ الْعَرُوسُ، قَالَتْ: تَدْرِي مَا سَقَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)؟، قَالَتْ: أَنْقَعْتُ تَمَرَاتٍ مِنَ اللَّيْلِ فَلَمَّا أَصْبَحْتُ صَفَّيْتُهُنَّ فَأَسْقَيْتُهُنَّ إِيَّاهُ.
سہل بن سعد ساعدی (رض) کہتے ہیں کہ ابواسید ساعدی (رض) نے رسول اللہ ﷺ کو اپنی شادی میں بلایا، تو سب لوگوں کی خدمت دلہن ہی نے کی، وہ دلہن کہتی ہیں : جانتے ہو میں نے رسول اللہ ﷺ کو کیا پلایا ؟ میں نے چند کھجوریں رات کو بھگو دی تھیں، صبح کو میں نے ان کو صاف کیا، اور آپ ﷺ کو ان کا شربت پلایا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/النکاح ٧١ (٥١٧٦، ٥١٧٧) ، صحیح مسلم/الاشربة ٢٧ (٢٠٠٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٧٠٩) (صحیح )