حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى، وَيُونُسُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيَّبِ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ كَانَ يَقُول: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): يَقْبِضُ اللَّهُ الْأَرْضَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَيَطْوِي السَّمَاءَ بِيَمِينِهِ، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْمَلِكُ أَيْنَ مُلُوكُ الْأَرْضِ؟ .
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) کہتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن زمین کو اپنی مٹھی میں لے لے گا، اور آسمان کو اپنے دائیں ہاتھ میں لپیٹ لے گا، پھر فرمائے گا : اصل بادشاہ میں ہوں، زمین کے بادشاہ کہاں ہیں ؟ ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة الزمر ٣ (٤٨١٢) ، التوحید ٦ (٧٣٨٢) ، صحیح مسلم/صفة القیامة ١ (٢٧٨٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٣٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢ /٣٧٤) ، سنن الدارمی/الرقاق ٨٠ (٢٨٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے اللہ تعالیٰ کے لئے ید و قبض و طی کا اثبات ہوتا ہے، اہل سنت اس پر ایمان رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دو ہاتھ ہیں جو قبض و بسط و انفاق جیسی صفات رکھتے ہیں، اس کے دونوں ہاتھ یمین ہیں، اور اس کے ہاتھ ایسے ہیں جیسے اس کی شان کے لائق ہیں۔