حَدَّثَنَا أَبُو مَرْوَانَ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعُثْمَانِيُّ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) عَنِ الْعَزْلِ؟، فَقَالَ: أَوَ تَفْعَلُونَ لَا عَلَيْكُمْ أَنْ لَا تَفْعَلُوا، فَإِنَّهُ لَيْسَ مِنْ نَسَمَةٍ قَضَى اللَّهُ لَهَا، أَنْ تَكُونَ إِلَّا هِيَ كَائِنَةٌ.
ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے عزل کے بارے میں پوچھا : تو آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم لوگ ایسا کرتے ہو ؟ ایسا نہ کرنے میں تمہیں کوئی نقصان نہیں ہے، اس لیے کہ جس جان کو اللہ تعالیٰ نے پیدا ہونا مقدر کیا ہے وہ ضرور پیدا ہوگی ۔ ١ ؎ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ ابن ماجہ، (تحفة الأشراف : ٤١٤١) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/البیوع ١٠٩ (٢٢٢٩) ، العتق ١٣ (٢٥٤٢) ، المغازي ٣٢ (٤١٣٨) ، النکاح ٩٦ (٥٢١٠) ، القدر ٦ (٦٦٠٣) ، التوحید ١٨ (٧٤٠٩) ، صحیح مسلم/النکاح ٢٢ (١٤٣٨) ، سنن ابی داود/النکاح ٤٩ (٢١٧٠) ، سنن الترمذی/النکاح ٤٠ (١١٣٨) ، سنن النسائی/النکاح ٥٥ (٣٣٢٩) ، موطا امام مالک/الطلاق ٣٤ (٩٥) ، مسند احمد (٢/٢٢، ٢٦، ٤٧، ٤٩، ٥١، ٥٣، ٥٩، ٦٨، ٧٢، ٧٨، ٨٨، ٩٣) ، سنن الدارمی/النکاح ٣٦ (٢٢٦) (صحیح) ١٩٢ وضاحت : ١ ؎: عزل : شرمگاہ سے باہر منی نکالنے کو عزل کہتے ہیں۔