حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ مَرْثَدٍ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ رَزِينٍيُحَدِّثُ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ)، فِي الرَّجُلِ تَكُونُ لَهُ الْمَرْأَةُ، فَيُطَلِّقُهَا، فَيَتَزَوَّجُهَا رَجُلٌ، فَيُطَلِّقُهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، أَتَرْجِعُ إِلَى الْأَوَّلِ، قَالَ: لَا حَتَّى يَذُوقَ الْعُسَيْلَةَ.
عبداللہ بن عمر (رض) نبی اکرم ﷺ سے ایک ایسے شخص کے بارے میں روایت کرتے ہیں، جو اپنی بیوی کو طلاق دیدے، پھر دوسرا شخص اس سے شادی کرے اور دخول سے پہلے اسے طلاق دے، تو کیا وہ پہلے شوہر کے پاس لوٹ سکتی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں جب تک کہ دوسرا شوہر اس کا مزہ نہ چکھ لے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الطلاق ١٢ (٣٤٤٣) ، (تحفة الأشراف : ٧٠٨٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٥، ٦٢، ٨٥) (صحیح )