حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ الْمِصْرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ لَهِيعَةَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، وَعُقَيْلٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَمْعَةَ، عَنْ أُمِّهِ زَيْنَبَ بِنْتِ أَبِي سَلَمَةَ، أَنَّهَا أَخْبَرَتْهُ: أَنَّ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ (ﷺ) كُلَّهُنَّ خَالَفْنَ عَائِشَةَ وَأَبَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ عَلَيْهِنَّ أَحَدٌ بِمِثْلِ رَضَاعَةِ سَالِمٍ مَوْلَى أَبِي حُذَيْفَةَ، وَقُلْنَ: وَمَا يُدْرِينَا لَعَلَّ ذَلِكَ كَانَتْ رُخْصَةً لِسَالِمٍ وَحْدَهُ.
زینب بنت ابی سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ کی ساری بیویوں نے اس مسئلہ میں ام المؤمنین عائشہ (رض) کی مخالفت کی، اور انہوں نے انکار کیا کہ سالم مولی ابوحذیفہ (رض) جیسی رضاعت کوئی کر کے ان کے پاس آئے جائے، اور انہوں نے کہا : ہمیں کیا معلوم شاید یہ صرف سالم کے لیے رخصت ہو۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/الرضاع ٧ (١٤٥٤) ، سنن النسائی/النکاح ٥٣ (٣٣٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٨٢٧٤) (صحیح )