حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ، قَالَا: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مِقْسَمٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَقُولُ: يَأْخُذُ الْجَبَّارُ سَمَاوَاتِهِ وَأَرْضَهُ بِيَدِهِ، وَقَبَضَ بِيَدِهِ فَجَعَلَ يَقْبِضُهَا وَيَبْسُطُهَا، ثُمَّ يَقُولُ: أَنَا الْجَبَّارُ أَيْنَ الْجَبَّارُونَ أَيْنَ الْمُتَكَبِّرُونَ؟ ، قَالَ: وَيَتَمَيَّلُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ يَسَارِهِ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى الْمِنْبَرِ يَتَحَرَّكُ مِنْ أَسْفَلِ شَيْءٍ مِنْهُ، حَتَّى إِنِّي أَقُولُ أَسَاقِطٌ هُوَ بِرَسُولِ اللَّهِ (ﷺ).
عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو منبر پر فرماتے ہوئے سنا : جبار (اللہ تعالیٰ ) آسمانوں اور زمین کو اپنے ہاتھ میں لے لے گا (آپ ﷺ نے اپنی مٹھی بند کی اور پھر اسے باربار بند کرنے اور کھولنے لگے) اور فرمائے گا : میں جبار ہوں، کہاں ہیں جبار اور کہاں ہیں تکبر (گھمنڈ) کرنے والے ؟ ، عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ دائیں اور بائیں جھکنے لگے یہاں تک کہ میں نے منبر کو دیکھا کہ نیچے سے ہلتا تھا، مجھے خطرہ محسوس ہوا کہ وہ کہیں رسول اللہ ﷺ کو لے کر گر نہ پڑے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/صفات المنافقین ١ (٢٧٨٨) ، (تحفة الأشراف : ٧٣١٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التوحید ١٩ (٧٤١٢) ، سنن ابی داود/السنة ٢١ (٤٧٣٢) ، سنن النسائی/الکبری ١٨ (٧٦٨٩) ، مسند احمد (٢/٧٢) ، سنن الدارمی/الرقاق ٨٠ (٢٨٤١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اس حدیث سے صاف ثابت ہوا کہ صفات باری تعالیٰ میں لفظ ید (ہاتھ) سے حقیقی ید ہی مراد ہے، اس کی تاویل قدرت و طاقت اور اقتدار سے کرنا گمراہی ہے۔