حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ فَاطِمَةَ، عَنْ أَسْمَاءَ، قَالَتْ: جَاءَتِ امْرَأَةٌ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَتْ: إِنَّ ابْنَتِي عُرَيِّسٌ، وَقَدْ أَصَابَتْهَا الْحَصْبَةُ، فَتَمَرَّقَ شَعْرُهَا فَأَصِلُ لَهَا فِيهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَعَنَ اللَّهُ الْوَاصِلَةَ وَالْمُسْتَوْصِلَةَ.
اسماء (رض) کہتی ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور کہنے لگی : میری بیٹی دلہن ہے، اور اسے چیچک کا عارضہ ہوا جس سے اس کے بال جھڑ گئے، کیا میں اس کے بال میں جوڑ لگا دوں ؟ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے بالوں کو جوڑنے والی اور جو ڑوانے والی عورتوں پر لعنت فرمائی ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/اللباس ٨٣ (٥٩٤١) ، صحیح مسلم/اللباس ٣٣ (٢١٢٢) ، سنن النسائی/الزینة ٢٢ (٥٠٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١٥٧٤٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١١١، ٣٤٥، ٣٤٦، ٣٥٣) (صحیح )