حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ، عَنْ عُثْمَانَ يَعْنِي ابْنَ الْمُغِيرَةِ الثَّقَفِيَّ، عَنْسَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَعْرِضُ نَفْسَهُ عَلَى النَّاسِ فِي الْمَوْسِمِ، فَيَقُولُ: أَلَا رَجُلٌ يَحْمِلُنِي إِلَى قَوْمِهِ فَإِنَّ قُرَيْشًا قَدْ مَنَعُونِي أَنْ أُبَلِّغَ كَلَامَ رَبِّي .
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ حج کے دنوں میں اپنے آپ کو لوگوں کے سامنے پیش کرتے اور فرماتے : کیا کوئی ایسا شخص نہیں ہے جو مجھے اپنی قوم میں لے جائے ؟ اس لیے کہ قریش نے مجھے اپنے رب کے کلام کی تبلیغ سے روک دیا ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/السنة ٢٢ (٤٧٣٤) ، سنن الترمذی/فضائل القرآن ٢٤ (٢٩٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٤١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣٢٢، ٣٩٠) ، سنن الدارمی/فضائل القرآن ٥ (٣٣٩٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: حدیث سے ثابت ہوا کہ قرآن اللہ تعالیٰ کا کلام ہے، ناکہ جبریل (علیہ السلام) کا، کلام اللہ کو مخلوق کا کلام کہنا گمراہوں کا کام ہے۔