حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: وَاللَّهِ لَمَنْ شَاءَ لَاعَنَّاهُ لَأُنْزِلَتْ سُورَةُ النِّسَاءِ الْقُصْرَى بَعْدَ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! جو کوئی چاہے ہم اس سے لعان کرلیں کہ چھوٹی سورة نساء (سورۃ الطلاق) اس آیت کے بعد اتری ہے جس میں چار ماہ دس دن کی عدت کا حکم ہے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابی داود/الطلاق ٤٧ (٢٣٠٧) ، سنن النسائی/الطلاق ٥٦ (٣٥٥٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٥٧٨) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/تفسیر سورة الطلاق ٢ (٤٩٠٩) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎: اور سورة طلاق میں یہ آیت وَأُوْلاتُ الأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ (سورة الطلاق : 4) حاملہ عورتوں کے باب میں ناسخ ہوگی پہلی آیت کی البتہ غیر حاملہ وفات کی عدت چار مہنیے دس دن گزارے۔